مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ نے ہندوستان کو ہتھیاروں سے لیس بڑے ’نگراں‘ ڈرون فروخت کرنے کی پیشکش کی ہے۔ پہلے تو امریکا نے بھارت کو غیر مسلح ڈرون دینے کا فیصلہ کیا تھا جنہیں صرف جاسوسی اور نگرانی کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔ تاہم اب نامعلوم وجوہات کی بنا پر ان ڈرونز کو مسلح حالت میں فراہم کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اگر سودا طے پاگیا تو یہ طیارے جنوبی ایشیا میں اپنی نوعیت کے پہلے ہائی ٹیکنالوجی ڈرون ہوں گے جو کسی اور ملک کے پاس نہیں۔ امریکہ نے اب تک نیٹو کے سوا کسی ملک کو یہ مسلح ڈرون فروخت نہیں کیے ہیں اور ہندوستان اس ٹیکنالوجی کو حاصل کرنے والا پہلا غیر نیٹو ملک ہوگا۔ اس سودے میں صرف ایک انتظامی رکاوٹ حائل ہے کہ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ہندوستان کو ایک مواصلاتی معاہدے (کمیونی کیشنز کمپیٹ ایبیلٹی اینڈ سیکیورٹی ایگریمنٹ) پر دستخط کرنے ہوں گے تاہم بعض ہندوستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں ان کے معاملات میں بہت زیادہ دخل اندازی کی گئی ہے۔ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان کافی عرصے سے 22 غیر مسلح نگراں ڈرونز کے سودے پر بات چیت ہورہی تھی جس کی مجموعی مالیت 2 ارب ڈالر ہے۔ لیکن اگر دونوں ممالک میں مسلح ڈرونز کی خریداری پر بھی اتفاق ہوجاتا ہے تو سودے کی لاگت اور ڈرونز کی تعداد دونوں میں اضافہ ہوجائے گا۔
امریکہ نے ہندوستان کو ہتھیاروں سے لیس بڑے ’نگراں‘ ڈرون فروخت کرنے کی پیشکش کی ہے۔
News ID 1882366
آپ کا تبصرہ